بسم اللہ الرحمن الرحیم
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک عربی کے علاوہ کسی اور زبان میں جمعہ یا عیدین کا خطبہ مکروہ تحریمی ہے۔
یہ بہتان ہے کہ غیر عربی زبان میں خطبے کی اجازت کا امام موصوف نے فتوی دیا۔
جمعہ کی نماز ظہر کی نماز کے بدلے میں فرض ہے۔ ظہر کی چار رکعت والی نماز سے دو رکعت نماز کے لیے اور دو رکعت خطبہ کے لیے بدل ہے۔ سورۂ جمعہ کے مطابق فا سعوا الی ذکر اللہ میں ذکر سے مراد خطبہ ہے اور اس کا سننا فرض ہے۔ اس طرح جمعہ اور عیدین کے خطبے نماز کے حصے ہیں۔ اسی وجہ سے خطبہ نماز اور اذان کی طرح عبادت ہے۔ ذکر میں اللہ تعالی کی حمدو ثنا کے کلمات قرآنی آیات سے ہوں اور ساتھ ہی ساتھ دین کی باتیں بھی قرآن و حدیث کی آیات و الفاظ اور ان کی تشریح پر مشتمل ہوں۔ جس طرح عبادت میں کسی ترجمے کی گنجائش نہیں ہے ، اسی طرح خطبے میں بھی اجازت نہیں۔ اگر چند اصطلاحات آجائیں جن کی تشریح مقامی زبان میں خطیب کی نگاہ میں ناگزیر ہو تو اس کی اجازت ہو سکتی ہے۔ ذکر یعنی خطبہ کا سننا فرض ہے، چاہے سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔سامعین( کم از کم تین ، مرد وعورت ملا کر)کی موجودگی ضروری ہے، چا ہے وہ سنیں یا سو جائیں۔چند چلے جائیں اور ان کے جانے سے پہلے چند آجائیں، کسی صورت میں کوئی فرق نہیں۔ صرف موجودگی لازم ہے۔ صرف خطیب کا عربی میں خطبہ دینے کے لائق ہونا ضروری ہے۔
ایک لفظ اس سلسلے میں تذکیر ہے۔ اس لفظ کا مادہ بھی ذکر ہی ہے۔ اس کا مفہوم ہے اللہ تعالی کے احکامات اور نفس دین کی یاد دہانی۔ ظاہر اس میں بھی قرآن مجید کی آیتوں اور حدیثوں کا بیان پھر حسب ضرورت ان کی تشریح کا ہونا لازمی ہوگا۔ تذکیر کا عربی زبان میں ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس کے لیے سامعین کا ہونا اور سننا صرف آمنے سامنے ہونے پرآواز کے ذریعہ ضروری ہے۔ ایک سامع کا ہوجانا، چاہے مرد ہو یا عورت یا بچہ کا فی ہے۔ دیگر ذرائع ابلاغ کی صورت میں سامع کا موجود ہونا قطعی ضروری نہیں۔ یہ فرق اس وجہ سے ہے کہ تذکیر عبادت نہیں ہے بلکہ اس کی طرف دعوت ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب امیر المومنین ہوئے تو آپ کے خطبۂ جمعہ سے پہلے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ منبر کے پاس کھڑے ہوجاتے اور احادیث بیان فرماتے اور تمام صحابۂ کرام ان سے احادیث سنتے۔ اس کے بعد اذان ہوتی اور امیر المومنین منبر پر جا کر خطبہ دیتے ۔ یہاں ذکر اور تذکیر دونوں کی واضح مثال موجود ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تذکیر کا کام کرتے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ذکر یعنی خطبہ دیتے۔
ذکر میں تذکیر اور تذکیر میں ذکر منطقی اعتبار سے شامل ہے۔ جسے سنایا جائے اسے اس کا اہل ہونا چاہیے کہ وہ سمجھ سکے۔ یہ منطقی بحث اس وقت تک نہیں ہو سکتی، جب تک پھر ایک بار یہ واضح نہ ہو جائے کہ عبادت میں عربی سمجھ میں آئے یا نہ آئے، قرآن مجید کی سورتوں، تسبیحات، تشہد، درود، دعا اور سلام وغیرہ کے ترجمے کی کسی حال میں اجازت نہیں ہے۔ اگر خطبۂ جمعہ عبادت ہے تو اس کا بھی عربی میں ہی ہونا لازمی ہے۔ اگر اسے عبادت (ذکر) سے نکال کر خالص تذکیر تسلیم کر لیا جائے تو منطقی بحث کی پوری گنجائش ہے۔
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا اپنے دونوں شاگردوں سے بس اس حد تک اختلاف رہا: " دونوں شاگرد یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیھما تمام ائمۂ کرام کی طرح اس موقف پر اٹل رہے کہ ہر حال میں خطبہ عربی زبان میں ہو۔ غیر عربی زبان میں خطبہ مکروہ تحریمی ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ نے فرمایا کہ غیر عربی زبان میں خطبہ، گو مکروہ تحریمی ہے، مگر کوئی ایسا خطبہ دے دے تو جمعہ کی نماز ہو جائے گی۔" ان الفاظ کو قوسین میں صرف اس لیے دیا گیا ہے کہ اس کے مطابق منطقی بحث کی جا سکے۔
کوئی بھی آدمی اس سے یہ مفہوم کیسے نکال سکتا ہے کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے غیر عربی زبان میں خطبے کی اجازت دی ہے؟ اس سے تو صرف یہ تفقہ فی الدین ظاہر ہوتا ہے کہ جمعہ کی نماز کے بطلان سے کتنی اور کیسی کیسی پریشانیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ انھوں نے صرف یہ فرمایا کہ اگر کوئی غیر عربی زبان میں خطبہ دیدے اور نماز بھی پڑھا دے تو اب یہ تکلیف مالا یطاق ہوگی کہ اتنے لوگوں کو نماز دہرانے کا مکلف بنایا جائے۔ اسی وجہ سے تو عیدین میں سجدۂ سہو جہاں ہونا چاہیے وہاں سجدۂ سہو نہ کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔
کم از کم تیرہ سو سال تک بلا اختلاف مسلک و مذہب جمعہ اور عیدین کے خطبوں کو عبادت ہی تسلیم کیا جاتا رہا۔ کہیں سے کوئی منطقی بحث سامنے نہیں آئی۔چودھویں صدی ہجری میں سب سے پہلے ترکی میں یہ منطقی بحث اٹھی کہ جب خطبہ نمازیوں کی سمجھ سے باہر ہےتو عربی میں اس کے لزوم کی شرط غیر منطقی ہے۔ کافی چرچے رہے اور علما کے ایک گروپ نے اسے رائج کرنا شروع کر دیا۔
ابتدا میں بس اتنی اجا زت دی گئی کہ عربی میں جو خطبہ دیا جائے اس کا مقامی زبان میں ترجمہ کر دیا جائے۔ یہ بھی صرف پہلے خطبے میں، دوسرا خطبہ صرف عربی میں۔ یہ طریقہ عجم میں رائج ہوتا گیا، جس میں بر صغیر بھی شامل ہے۔ پھر وہ دور آتا ہے جب ترجمہ کی بجاے مقامی زبان میں آزادانہ طور پر خطبہ شروع ہوا، لیکن صرف پہلے خطبے تک اسے محدود رکھا گیا۔
اب خطبے کی حسب ذیل صورتیں رائج ہیں:
1۔ صرف عربی زبان میں دونوں خطبے
2۔ عربی زبان میں دونوں خطبے، مگر پہلے خطبے کا مقامی زبان میں ترجمہ
3۔عربی زبان میں صرف دوسرا خطبہ اور پہلے خطبے میں حمد و صلوۃ کے بعد آزادانہ طور پر تذکیر یعنی دین کی باتیں یا اپنی سمجھ سے دین کا پہلو نکالتے ہوئے وقت کے تقاضا کے مطابق کسی موضوع پر تقریر
4۔ سنت متوارثہ کا پورا پورا خیال رکھتے ہوئے خود امام یا کوئی دوسرا شخص اذان سے پہلے مقامی زبان میں تذکیر کے لیے وقت کے تقاضا کے اعتبار سے تقریر کرے اور اذان کے بعد امام دونوں خطبے صرف عربی میں دے۔
جہاں تک بدعت کا سوال ہے، ان چار صورتوں میں دوسری اور تیسری صورتوں میں صاف نظر آتی ہے۔ پہلی صورت تو ماشاء اللہ ہے۔ چوتھی صورت بھی بدعت سے پاک نظرآتی ہے۔ مزید برآں اس کی تائید میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تائید شامل ہے۔ اب تیسری صورت پر عمل کرنے والا چوتھی صورت کو بدعت کہے اور تیسری کو سنت تو اس سے کون بحث کرے۔
No comments:
Post a Comment